لِتُخْرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ
”تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔“
سورۂ ابراہیم، آیت ۱
قرآن پڑھنا، تلاوت کرنا اور سمجھنا سیکھیں
دینیات آن لائن اسکول، کشمیر — جہاں محمد شفیع میر قرآن، تجوید اور قرآنی عربی کی لائیو آن لائن کلاسز لیتے ہیں، بچوں اور بڑوں کے لیے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔
ہم کیوں پڑھاتے ہیں
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ ٱلْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ”تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور سکھائے۔“
صحیح بخاری
دینیات کا مطلب ہے دین کا علم، اور دین کا علم اللہ کی کتاب سے شروع ہوتا ہے۔ یہ اسکول اس لیے ہے کہ جو بھی قرآن سیکھنا چاہے، وہ ایک قابل استاد سے اچھی طرح سیکھ سکے — چاہے وہ پہلی بار حروف پہچاننے والا بچہ ہو، وہ والدین جنہیں کبھی موقع نہ ملا، یا وہ جو برسوں بعد دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہوں۔
کلاسز براہِ راست اور ذاتی توجہ کے ساتھ ہوتی ہیں، اور اسباق اردو، کشمیری، ہندی یا انگریزی میں سمجھائے جاتے ہیں، تاکہ زبان کبھی طالب علم اور قرآن کے درمیان رکاوٹ نہ بنے۔
تین کورسز
پڑھنا · مکمل کرنا · سمجھنا
ناظرہ و تجوید
عربی حروف، ان کی صحیح ادائیگی اور تجوید کے قواعد — یہاں تک کہ آپ خود قرآن پڑھ سکیں۔
کورس کے بارے میںدورۂ قرآن
استاد کی نگرانی میں مکمل قرآن کی تلاوت، ساتھ ہی سیرتِ نبی ﷺ اور روزمرہ کی دعائیں۔
کورس کے بارے میںقرآنی عربی
قرآن کے الفاظ اور قواعد، تاکہ تلاوت کرتے اور سنتے ہوئے اس کا مفہوم دل تک پہنچنے لگے۔
کورس کے بارے میںاستاد
محمد شفیع میر
محمد شفیع میر پچیس سال سے زیادہ عرصے سے تدریس سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے کشمیر یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اس کے علاوہ وہ فاضل (اسلامک اسٹڈیز)، ایم اے اردو اور بی ایڈ ہیں۔
ان کی کلاس میں طالب علم بلند آواز سے پڑھتے ہیں اور وہ سنتے ہیں — ہر حرف کی اصلاح کرتے ہوئے، جب تک وہ درست نہ ہو جائے، اسی طرح جیسے قرآن ہمیشہ استاد سے شاگرد تک پہنچا ہے۔
کلاس میں
صبر، توجہ اور براہِ راست تعلیم
سوالات
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا پہلی کلاس مفت ہے؟
جی ہاں۔ پہلی کلاس بلا معاوضہ ہے۔ اس میں استاد سے ملاقات ہوتی ہے، ساتھ پڑھا جاتا ہے، اور یہ طے کیا جاتا ہے کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔
اسباق کس زبان میں ہوتے ہیں؟
اردو، کشمیری، ہندی یا انگریزی میں — جس زبان میں طالب علم بہتر سمجھ سکے۔ قرآن مجید ظاہر ہے عربی ہی میں پڑھا جاتا ہے۔
کیا خواتین اور بچیوں کے لیے الگ کلاسز ہیں؟
جی ہاں۔ خواتین اور بچیاں اپنی الگ کلاسز میں، گھر سے پڑھتی ہیں۔
بچہ کس عمر میں شروع کر سکتا ہے؟
عام طور پر تقریباً پانچ سال کی عمر میں، جب بچہ مختصر سبق میں توجہ سے بیٹھ سکے۔ بڑوں کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں۔
کیا ہندوستان سے باہر کے طلبہ شامل ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں۔ کلاسز آن لائن ہیں۔ اپنا ملک اور وقت بتائیں، ہم مناسب وقت تجویز کریں گے۔
آپ کا خیرمقدم ہے
چاہے آپ حروفِ تہجی سے شروع کر رہے ہوں یا برسوں بعد دوبارہ، ہمیں لکھیں۔ ہمیں بتائیں کہ کون سیکھنا چاہتا ہے، اور ہم بتائیں گے کہ کہاں سے شروع کیا جائے۔ پہلی کلاس بلا معاوضہ ہے۔